سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ
ہماری امید ... بہتر مستقبل ...

تعارف


قواعد و ضوابط

ریگولیٹری نظام مندرجہ ذیل نقاط پرمشتمل ہے
کمپنی آرڈیننس 1984۔
پاکستان کے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی)کے تجویز کردہ قواعد و ضوابط۔
تمام بازارحصص یعنی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اندراجی (لسٹنگ) ضابطے۔
پبلک سیکٹر کمپنیوں (کارپوریٹ گورننس) کے قواعد 2013 اور کارپوریٹ گورننس 2012 کے ضوابط۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس (2002 کی شق XVII ) بتاریخ ۲۸ مارچ 2002۔
قدرتی گیس ریگولیٹری اتھارٹی (لائسنسنگ) 26 فروری 2002 کے قواعد۔
قدرتی گیس ٹیرف قوانین 2002 (ڈرافٹ – 5 جولائی 2002)۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اس طرح کے تجویزکردہ دیگر قواعد و ضوابط۔
پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) آرڈیننس، 2002۔
 
قیمتوں کے تعین اور ریگولیٹری کے موجودہ انتظام کے تحت، سرگرمی کے لئے مندرجہ ذیل شرائط لاگو کی گئی ہیں:
مختلف ذرائع سے حاصل شدہ گیس کی تقسیم حکومت پاکستان کرتی ہے جبکہ گیس کی کنویں کی قیمت اوگرا کے پٹرولیم حقوق کے سمجھوتوں/ معاہدوں کےمطابق مقرر کی جاتی ہیں ۔
بڑے صارفین سمیت (یعنی بجلی، کھاد وغیرہ) صارفین کے لئے قیمت فروخت کا اعلان حکومت پاکستان / اوگرا کرتے ہیں۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو مالی اخراجات سے نمٹنے، ٹیکس ادا کرنے اورحصص برداروں کو معقول عوضانہ دینے کے لئے اپنی سرگرمیوں میں زیر استعمال اپنے خالص املاک ِقائمہ (آر ۔او ۔اے) پر 17.5 فی صد شرح واپسی کی ضمانت دی گئی ہے۔
اوگرا کمپنی کے لئے اعلان کردہ قیمت مقرر کرتی ہے.یعنی قیمتِ فروخت برائے صارفین میں سے جو کمپنی رکھ سکتی ہے تاکہ واپسی کی شرح کا عہد پورا کر سکے۔
ضابطے:
کراچی بازارِ حصص کے ضابطے
لاہور بازارِ حصص کے ضابطے
اسلام آباد بازارِ حصص کے ضابطے
سینٹرل ڈیپازٹریز ایکٹ 1997

Updated: 11-10-2016